لکھنؤ،17؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے ابتدائی دونوں مرحلوں میں بی جے پی کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے اور اس کا اعتراف خود آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 14فروری کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے وسط میں ہی موہن بھاگوت نے یوپی کے آر ایس ایس سے وابستہ عہدیداروں کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ میں واضح طور پر کہا کہ آئی بی کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی کو پہلے مرحلے میں کافی نقصان پہنچا ہے اور دوسرے مرحلے میں بھی اس کی حالت خستہ ہے، لہٰذا آر ایس ایس کے تمام کارکنوں کو متحرک کیا جائے-
آر ایس ایس کے ایک سینئر کارکن نے موہن بھاگوت کے حوالے سے یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سنگھ کے سربراہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ پہلے دونوں مرحلوں میں بی جے پی کی حالت ٹھیک نہیں رہی- پہلے مرحلہ میں اسے17سیٹیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں بھی اس کی حالت خراب ہے-
خیال رہے کہ پہلے مرحلے میں 10فروری کو مغربی اتر پردیش کی 58سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی تھی- 2017کے انتخابات میں بی جے پی نے ان میں سے53سیٹیں جیتی تھیں لیکن آئی بی کی رپورٹ کی بنیاد پر سنگھ کا اندازہ اس بار بی جے پی صرف 17سیٹوں تک ہی محدود رہے گی- دوسرے مرحلے میں مغربی اتر پردیش اور روہیل کھنڈ کی55سیٹوں پر14فروری کو پولنگ ہوئی-2017میں بی جے پی نے ان میں سے38سیٹیں جیتی تھیں لیکن سنگھ کا اندازہ ہے کہ اس بار بی جے پی آدھی سیٹیں بھی حاصل نہیں کر پائے گی-اگرچہ بی جے پی کو اپنی سیٹوں میں کمی کا پہلے سے ہی علم تھا لیکن سنگھ کے سربراہ کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں جو اندازے سامنے آئے ہیں اس سے پارٹی لیڈر حیران ہیں - وہ یقین نہیں کر پا رہے کہ پارٹی کی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے-
سنگھ کے کارکن نے کہاکہ حجاب کے تنازع نے مسلم ووٹروں کو متحد کر دیا اور وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کیلئے باہر آئے- خاص طور پر دوسرے مرحلے میں یہ اثر واضح طور پر نظر آیا- جبکہ ہندو خاموش رہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے دو مرحلوں میں بی جے پی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے-